کباڑ خانہ
قسم کلام: اسم ظرف
معنی
١ - مختلف قسم کے پرانے اور ٹوٹے پھوٹے سامان کا گودام۔ "اب سے تین چار دہائی پہلے کی ہر تحریر ماضی کے کباڑ خانے میں ڈال دینے کی ہے۔" ( ١٩٨٧ء، حصار، ١٤ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'کباڑ' کے ساتھ فارسی اسم 'خانہ' بطور لاحقۂ ظرفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٠٧ء کو "مخزن" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مختلف قسم کے پرانے اور ٹوٹے پھوٹے سامان کا گودام۔ "اب سے تین چار دہائی پہلے کی ہر تحریر ماضی کے کباڑ خانے میں ڈال دینے کی ہے۔" ( ١٩٨٧ء، حصار، ١٤ )
جنس: مذکر